قرآن و حدیث کی روشنی میں
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ، جس میں روز مرہ زندگی کے ہر عمل کے لیے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات موجود ہیں ، مسنون دعائیں وہ دعائیں ہیں جو رسول الله ﷺ نے خود پڑھیں یا صحابہ کرامؓ کو سکھائی ، ان دعاؤں کی پابندی سے زندگی میں برکت ، سکون اور الله تعالیٰ کی قربت حاصل ہوتی ہے .
مسنون دعاؤں کی اہمیت
- سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کا ذریعہ
- اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق
- مشکلات اور آزمائشوں میں مدد
- دن بھر کے اعمال میں برکت
اہم مسنون دعائیں (حوالہ جات کے ساتھ)
سونے سے پہلے کی دعا
عربی دعا:
اَللّٰهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا
ترجمہ:
اے اللہ! میں تیرے نام کے ساتھ مرتا ہوں اور جیتا ہوں۔
حوالہ:
صحیح بخاری: 6312
جاگنے کی دعا
اَلْـحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ
ترجمہ:
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں موت دینے کے بعد زندہ کیا، اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔
حوالہ:
صحیح بخاری: 6314
بیت الخلا میں داخل ہونے کی دعا
عربی دعا:
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ
ترجمہ:
اے اللہ! میں ناپاک جنات اور ناپاک چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
حوالہ:
صحیح بخاری: 142، صحیح مسلم: 375
بیت الخلا سے نکلنے کی دعا
عربی دعا:
غُفْرَانَكَ
ترجمہ:
اے اللہ! تیری بخشش چاہتا ہوں۔
حوالہ:
سنن ابی داؤد: 30، سنن ترمذی: 7
گھر میں داخل ہونے کی دعا
عربی دعا:
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَوْلِجِ وَخَيْرَ الْمَخْرَجِ
ترجمہ:
اے اللہ! میں تجھ سے داخل ہونے اور نکلنے کی بھلائی مانگتا ہوں۔
حوالہ:
سنن ابی داؤد: 5096
قرض سے نجات کی دعا
اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ
وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ
اردو ترجمہ
اے اللہ!
تو مجھے اپنے حلال کے ذریعے حرام سے بے نیاز کر دے
اور اپنے فضل سے اپنے سوا سب سے محتاجی سے بچا لے۔
حدیث کا حوالہ
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ دعا سکھائی اور فرمایا:
اگر تم پر پہاڑ کے برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ ادا فرما دے گا۔
حوالہ:
سنن ترمذی: 3563
یہ بھی پڑھیں
دوسری مسنون دعا (قرض اور غم سے پناہ)
عربی دعا
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ
وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ
وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ
وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ
اردو ترجمہ
اے اللہ!
میں غم اور پریشانی سے تیری پناہ مانگتا ہوں،
کمزوری اور سستی سے تیری پناہ مانگتا ہوں،
بزدلی اور بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں،
اور قرض کے بوجھ اور لوگوں کے دباؤ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
حوالہ
صحیح بخاری: 2893

ایک تبصرہ شائع کریں