تعارف
اسلامی تعلیمات کا بنیادی مقصد انسان کے کردار کو سنوارنا ہے ، بچپن میں سکھائی گئی اچھی عادتیں انسان کو پوری زندگی فائدہ دیتی ہیں ، یہ کہانی ایک ایسے مسلمان بچے کی ہے ، جس نے امانت داری کو اپنا شعار بنایا اور الله کی رضا حاصل کی .
مکمل کہانی
عمر ایک درمیانے طبقے کے گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔
اس کے والد ایک محنتی انسان تھے اور والدہ اسے ہمیشہ اسلامی اخلاق سکھاتی تھیں۔
وہ اکثر کہا کرتی تھیں:
"بیٹا! امانت میں خیانت کرنے والا اللہ کو پسند نہیں۔"
عمر ان باتوں کو دل سے مانتا تھا.
ایک دن عمر اسکول سے واپس آ رہا تھا۔
راستے میں اسے ایک بٹوہ نظر آیا۔
اس نے بٹوہ اٹھایا تو دیکھا کہ اس میں پیسے اور شناختی کاغذات موجود ہیں۔
ایک لمحے کے لیے اس کے دل میں خیال آیا:
"اگر میں یہ رکھ لوں تو کوئی مجھے نہیں دیکھ رہا۔"
مگر فوراً اسے اللہ یاد آ گیا۔
آزمائش اور فیصلہ
عمر کو نبی کریم ﷺ کی حدیث یاد آئی:
"جس میں امانت نہیں، اس میں ایمان نہیں۔"
اس کا دل کانپ اٹھا۔
اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ یہ بٹوہ ہر حال میں واپس کرے گا۔
وہ قریبی دکان پر گیا اور دکاندار کو ساری بات بتائی۔
کچھ دیر بعد بٹوے کا مالک وہاں آ گیا۔
جب عمر نے بٹوہ واپس کیا تو وہ شخص رونے لگا اور دعا دی:
"اللہ تمہیں دنیا و آخرت میں کامیاب کرے۔"
والدین کی خوشی
گھر جا کر عمر نے والدین کو سب کچھ بتایا۔
انہوں نے اسے گلے لگا لیا اور کہا:
"بیٹا! تم نے ثابت کر دیا کہ تم سچے مسلمان ہو۔"
اس دن عمر نے سیکھا کہ
اصل خوشی حلال اور سچ کے راستے میں ہے۔
اخلاقی سبق
- امانت داری ایمان کا حصہ ہے
- اللہ سچوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا
- وقتی فائدہ ہمیشہ نقصان میں بدلتا ہے
- اچھا اخلاق اصل دولت ہے
یہ اسلامی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ
اگر بچے شروع سے ہی امانت داری سیکھ لیں
تو معاشرہ خود بخود بہتر ہو جاتا ہے۔
اللہ ہمیں سچا اور امانت دار بنائے۔ آمین۔
About Us
ہماری ویب سائٹ کا مقصد بچوں اور بڑوں کے لیے
اسلامی اخلاقی کہانیاں اردو میں پیش کرنا ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ نئی نسل
اسلامی اقدار، اچھے اخلاق اور مثبت سوچ کے ساتھ پروان چڑھے۔
یہاں شائع ہونے والا تمام مواد
تعلیمی، اخلاقی اور فیملی فرینڈلی ہے،
Privacy Policy
م صارفین کی پرائیویسی کا مکمل احترام کرتے ہیں۔
ہم کسی قسم کی ذاتی معلومات جمع نہیں کرتے۔
Contact Us
اگر آپ کو ہماری کہانیوں سے متعلق
کوئی سوال یا تجویز ہو
تو آپ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں:



ایک تبصرہ شائع کریں