یہ کہانی ایک ایسے بچے کی ہے جو غریب ضرور تھا ، مگر اس کا دل ایمان ، سچائی اور نیکی سے بھرا ہوا تھا ، یہ کہانی خاص طور پر بچوں کی تربیت پر لکھی گئی ہے تا کہ وہ سیکھیں کہ سچ بولنا ، صبر کرنا اور الله پر بھروسہ رکھنا زندگی کی اصل کامیابی ہے ،
ایک نیک دل بچے کی زندگی
ایک چھوٹے سے سر سبز گاؤں میں عبدالرحمان نام کا ایک بچہ رہتا تھا ، اس کی عمر بارہ سال تھی ، اس کا گھر کچا تھا ، دیواروں میں دراڑیں تھی اور چھت پر پرانی چادریں پر رہتی تھی تا کہ بارش کا پانی اندر نہ آئے .
عبدالرحمان کے والد کھیتوں میں مزدری کرتے تھے اور اس کی ماں گھر سمبھالنے کے ساتھ ساتھ بچوں کو دینی تربیت دیتی تھی ، ماں روز فجر کے بعد عبدالرحمان سے کہتی :
بیٹا ! اگر تمہارے پاس کچھ بھی نہ ہو، مگر سچ اور ایمان ہو، تو تم سب سے امیر ہو ،
یہ الفاظ عبدالرحمان کے دل میں گھر کر گئے تھے .
تعلیم سے محبت اور اچھے اخلاق
عبدالرحمن کو پڑھنے کا بے حد شوق تھا۔ اس کا بستہ پرانا اور کتابیں پھٹی ہوئی تھیں، مگر وہ انہیں بہت سنبھال کر رکھتا تھا۔ وہ اسکول کبھی دیر سے نہیں پہنچتا اور استاد کی ہر بات غور سے سنتا۔
استاد اکثر کلاس میں کہتے:
"بچو! علم کے ساتھ اخلاق ہو تو انسان بڑا بنتا ہے۔"
عبدالرحمن ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتا، سچ بولتا اور کسی کا دل نہیں دکھاتا۔
آزمائش کا لمحہ
ایک دن عبدالرحمن اسکول سے واپس آ رہا تھا۔ راستے میں ایک درخت کے نیچے اسے ایک شاپر پڑا ملا۔ اس نے اٹھا کر دیکھا تو اس میں کافی پیسے تھے۔
اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے سوچا:
"اگر یہ پیسے میں رکھ لوں تو ماں کے لیے دوائی آ جائے گی، بہن کے لیے جوتے بھی خرید سکوں گا۔"
مگر فوراً اسے ماں کی بات یاد آ گئی:
"بیٹا! حرام کا فائدہ وقتی ہوتا ہے، مگر اس کا نقصان ہمیشہ رہتا ہے۔"
عبدالرحمن نے فیصلہ کر لیا کہ وہ یہ پیسے واپس کرے گا۔
مسجد میں سچائی کی جیت
عبدالرحمن سیدھا مسجد گیا اور امام صاحب کو ساری بات بتا دی۔ امام صاحب نے اعلان کروایا۔ کچھ ہی دیر میں ایک بوڑھے شخص آئے، جن کے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے۔
انہوں نے روتے ہوئے کہا:
"بیٹا! یہ پیسے میری بیوی کے علاج کے لیے تھے۔ اگر یہ نہ ملتے تو میں بہت مشکل میں پڑ جاتا۔"
عبدالرحمن نے پیسوں والا شاپر ان کے ہاتھ میں دے دیا۔ بوڑھے شخص نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور دعا دی۔
امانت داری -ایک سچے مسلمان بچے کی مکمل کہانی
دعا جو رنگ لے آئی
اسی شام عبدالرحمن کے گھر ایک معزز تاجر آئے۔ انہوں نے کہا:
"میں نے تمہاری ایمانداری کے بارے میں سنا ہے۔ میں تمہاری تعلیم کا پورا خرچ اٹھانا چاہتا ہوں۔"
عبدالرحمن کی ماں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا:
"یا اللہ! تو نے میرے بچے کی سچائی کی لاج رکھ لی۔"
محنت، صبر اور کامیابی
سال گزرتے گئے۔ عبدالرحمن نے محنت اور صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ وہ نماز کا پابند تھا، قرآن پڑھتا اور والدین کی خدمت کرتا۔
بڑا ہو کر وہ ایک اچھا استاد بنا۔ بچے اسے صرف پڑھانے والا نہیں بلکہ اچھے اخلاق سکھانے والا استاد کہتے تھے۔
بچوں کے لیے سبق
اس کہانی سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے:
✅ سچ بولنا سب سے بڑی خوبی ہے
✅ اللہ پر بھروسہ کبھی ضائع نہیں جاتا
✅ ایمانداری عزت اور کامیابی دلاتی ہے
✅ والدین کی نصیحت زندگی بدل دیتی ہے
گر ہم اپنے بچوں کو شروع سے ہی سچائی، صبر اور ایمان سکھائیں، تو وہ معاشرے کے بہترین انسان بن سکتے ہیں۔
عبدالرحمن کی کہانی ہر بچے کے لیے ایک روشن چراغ ہے۔
اختتامی دعا
اے اللہ! ہمارے بچوں کو نیک، سچا اور بااخلاق بنا دے۔
انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی عطا فرما۔ آمین۔
مزید مفید پوسٹس
| • سورۃ الرحمن — مکمل تعارف، فضیلت، پیغام اور اہمیت |
| • سورۃ الفاتحہ: مکمل تعارف، فضیلت اور آڈیو تلاوت |
| • صلوٰۃُ التسبیح — مکمل اور مستند مضمون (حوالہ جات کے ساتھ ) |
| • صدقہ کیا ہے؟ فضیلت، اقسام اور فوائد | مکمل اردو مضمون |
| • 6 کلمے | عربی متن، اردو ترجمہ اور فضیلت | مکمل اردو مضمون |



.jpg)
ایک تبصرہ شائع کریں